اسلام آباد میں طالبان کے دو بارود بردار ڈرونز کو مار گرا دئیے: پاکستان
Civic Pulse
پولیس نے احتجاج شروع کرتے ہوئے ضلع بھر کی داخلی و خارجی سڑکیں بند کر دیں.
انڈس ہائی وے کرم پل اور درہ پیزو پر بند ہے جبکہ پنجاب جانے والی سڑکیں درہ تنگ اور میر عالمی کے مقام پر بند کر دی گئی ہیں
مختلف آئل اینڈ گیس فیلڈز کے راستے بھی بند ہیں اور کئی مقامات پر مسلح پولیس اہلکار تعینات ہیں
لکی مروت دھماکے میں 7 اہلکاروں کی شہادت کے بعد پولیس نے احتجاج کے طور پر سڑکیں بند کر دی گئی ہے.
مروت امن کمیٹی کی جانب سے چیک پوسٹوں پر عام شہریوں اور محنت کشوں کے ذاتی موبائل فونز کی تلاشی لینے کے عمل نے قانونی اور اخلاقی حلقوں میں شدید تحفظات پیدا کر دیے ہیں، کیونکہ کسی بھی غیر سرکاری تنظیم یا کمیٹی کو شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت کا کوئی آئینی اختیار حاصل نہیں ہے. سوشل میڈیا صارفین اس پالیسی کو تضاد قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایک طرف طالبان گروہوں میں موجود وزیر (Wazir) شناخت کو سیکیورٹی خطرہ بتایا جاتا ہے تو دوسری طرف اسی پس منظر کی حامل کمیٹیوں کو عوامی تلاشی کے بے جا اختیارات دینا سمجھ سے باہر ہے۔ یہ عمل نہ صرف آرٹیکل 14 کے تحت حاصل شہری وقار اور پرائیویسی کے حق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے دیہاڑی دار طبقے میں خوف و ہراس اور احساسِ کمتری بھی جنم لے رہا ہے۔ انتظامہ سے یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ امن و امان کے نام پر غریب عوام کی تذلیل بند کی جائے اور واضح کیا جائے کہ کس قانون کے تحت ایک نجی کمیٹی کو پولیس یا ریاست کے متبادل کے طور پر کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے.
Activist and journalist Jamima Afridi has shared a troubling video highlighting the situation of civilians affected by the conflict in Khyber Pakhtunkhwa.
In her post, she writes:
"Over 200 families, innocent victims of the war on terror, are living in tunnels (railway tunnels), without basic necessities like food, water, and washrooms. While the TTP roams freely in Mattani. Now the question is why is this happening despite multiple operations and checkposts?
The government and NGOs seem to have turned a blind eye on the people’s suffering in border regions. But the people are not silent, Locals and activists are marching for peace, demanding justice and peace."
سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے آج علی وزیر کی آخری کیس میں ضمانت منظور کر دی.
خیبر میں ٹی ٹی پی کی مبینہ موجودگی، ایمل ولی خان کی حکومت پر شدید تنقید
پشاور: خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی مبینہ موجودگی سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں تشویش بڑھ گئی ہے. ویڈیو میں مسلح افراد کو علاقے میں موجود دکھایا گیا ہے جس کے بعد سیکیورٹی صورتحال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں.
اس معاملے پر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا. اپنے بیان میں انہوں نے کہا:
"آپ ان کے پیچھے افغانستان چلے گئے، جبکہ وہ پشاور کے پوش علاقے حیات آباد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے آبائی ضلع خیبر میں نمودار ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ میں کہہ رہا ہوں کہ پہلے گڈ اور بیڈ کی پالیسی اپنے ملک میں ختم کریں، اس کے بعد دنیا سے بھی دہشت گردی کے ٹھکانوں کا خاتمہ کر لیں گے. "
انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی اضلاع پہلے ہی دہشت گردی سے شدید متاثر ہیں اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ: "جنوبی اضلاع پہلے ہی دہشت گردوں کے کنٹرول میں ہیں، پشاور بھی ان کے کنٹرول میں چلا جائے گا، لیکن ہمیں پھر بھی اپنی پالیسیاں ہی چلانی ہیں؛ کسی کو قید میں رکھنا ہے اور کسی کو باہر۔ قوم کو فارم 47 اور 45 میں الجھائے رکھنا ہے. "
ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن کے قیام کے لیے لاکھوں پختونوں اور ہزاروں سیاسی کارکنوں نے قربانیاں دی ہیں، اس لیے ان قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے. انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے واضح اور یکساں پالیسی اپنائی جائے.
تاحال حکومتی یا سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اس ویڈیو یا ٹی ٹی پی کی مبینہ موجودگی کے حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا.
امریکہ اور اسرائیل نے پہلی بار ایران میں تیل کے ذخیرہ اور ریفائنری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر آگ لگ گئی۔
ایران کے سینئر عہدیدار علی لاریجانی نے کہا ہے کہ امریکا کو جنگ چھیڑنے کی قیمت چکانا پڑے گی اور واشنگٹن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔
07/03/2026
میرانشاہ میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ کرنے والے خودکش، ضرار کی تصویر گل بہادر گروپ نے جاری کی ہے، جس کے نتیجے میں 14 شہری زخمی اور ایک وفات ہوا تھا.
اپڈیٹ
جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں پولیس گاڑی پر بم دھماکہ، جانی نقصان کی اطلاعات
لوئر جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں آج ایک خوفناک بم دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکار سمیت 2 افراد جاں بحق اور 20 سے زائد شہری شدید زخمی ہو گئے۔
پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق، دھماکہ رستم بازار میں مرزا عالم پیٹرول پمپ کے قریب اس وقت ہوا جب وہاں سے پولیس کی ایک گاڑی گزر رہی تھی۔ دھماکہ خیز مواد سڑک کنارے نصب کیا گیا تھا (آئی ای ڈی)، جس کا نشانہ پولیس کی نفری تھی.
Civic Pulse
جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں پولیس گاڑی پر بم دھماکہ، جانی نقصان کی اطلاعات
لوئر جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں آج ایک خوفناک بم دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکار سمیت 2 افراد جاں بحق اور 20 سے زائد شہری زخمی ہو گئے۔
پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق، دھماکہ رستم بازار میں مرزا عالم پیٹرول پمپ کے قریب اس وقت ہوا جب وہاں سے پولیس کی ایک گاڑی گزر رہی تھی۔ دھماکہ خیز مواد سڑک کنارے نصب کیا گیا تھا (آئی ای ڈی)، جس کا نشانہ پولیس کی نفری تھی.
Civic Pulse
جنوبی وزیرستان میں کمسن بچے کے قاتل کی گرفتاری اور اعترافِ جرم
لوئر جنوبی وزیرستان میں انسانیت سوز واقعہ، پولیس نے کمسن عمران کے مبینہ قاتل کو گرفتار کر کے میڈیا کے سامنے پیش کر دیا۔ ملزم نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے قتل کی لرزہ خیز وجوہات بیان کر دیں۔
واقعات کی تفصیل:
پولیس ذرائع کے مطابق، گرفتار ملزم کی شناخت محب ولد نور محمد، سکنہ تنائی (قوم وزیر، زلی خیل شاخ کنڈاکائی) کے نام سے ہوئی ہے۔ ملزم پر الزام ہے کہ اس نے معصوم عمران کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے رحمی سے پتھروں کے وار کر کے قتل کیا اور لاش کو پہاڑی نالے میں پھینک دیا تھا۔
پولیس کارروائی اور اعترافِ جرم:
ضلعی پولیس نے تندہی سے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا اور آج میڈیا کے نمائندوں کے سامنے پیش کیا۔ اس موقع پر ملزم محب نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ "شیطان کے بہکاوے میں آ کر" اس نے یہ قدم اٹھایا۔
قتل کی وجہ:
ملزم نے انکشاف کیا کہ جنسی زیادتی کے بعد مقتول عمران نے اسے دھمکی دی تھی کہ "میں گھر پہنچ کر آپ کو بے نقاب کر دوں گا اور سب کو سچ بتا دوں گا"۔ اسی خوف کے پیشِ نظر ملزم نے بچے کو خاموش کرنے کے لیے پتھروں سے مار کر اس کی جان لے لی۔
عوامی ردِعمل:
علاقہ مکینوں نے پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہا ہے، تاہم واقعے کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے درندگی کے واقعات کا تدارک ہو سکے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Website
Address
Islamabad
Attock
