25/10/2026
🇬🇧 برطانیہ میں قانون کی بالادستی، اور پاکستان میں قانون کے نفاذ پر سوالیہ نشان! 🇵🇰
برطانیہ میں ایک پولیس افسر کی گاڑی اگر ڈِسیبل پارکنگ کی جگہ پر غلط پارک ہو جائے، تو قانون کے مطابق کارروائی کرنے والا پرائیویٹ پارکنگ انفورسمنٹ اہلکار اس گاڑی پر بھی کلمپ لگا سکتا ہے۔ گاڑی چھڑوانے کے لیے £240 تک ادائیگی کی نوبت آ سکتی ہے، جیسا کہ اس واقعے میں بتایا جا رہا ہے۔
یہ مثال ایک اہم اصول کی یاد دہانی ہے: قانون کی نظر میں کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے، چاہے وہ پولیس افسر ہو یا عام شہری!
اب ذرا پاکستان کے نظامِ انصاف پر بھی نظر ڈالیں۔ وہاں عام شہری اکثر انصاف کے حصول، پولیس کے رویّے اور اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے سنگین شکایات کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں بھی قانون کا نفاذ امیر و غریب، طاقتور و کمزور اور بااختیار و بے اختیار سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے؟ یقیناً ہونا چاہیے!
پاکستانی عوام کو بھی ایسا نظام چاہیے جہاں پولیس عوام کی محافظ ہو، ان کے حقوق کی پاسداری کرے، اور کسی شہری کے ساتھ ناانصافی ہو تو اسے انصاف ملے۔
پاکستان کے حکمرانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے پیغام:
برطانیہ سے سبق سیکھیں کہ قانون کی عزت اس وقت قائم ہوتی ہے جب اس کا اطلاق عہدے، طاقت اور اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر سب پر یکساں ہو۔
قانون کی اصل طاقت کمزور کو دبانے میں نہیں، بلکہ طاقتور کو بھی قانون کا پابند بنانے میں ہے!