03/11/2026
شاہ فیصل ٹاؤن کا نیا سرکاری ٹاؤن آفس، جسے افتتاح کے بعد سے ہی ڈپٹی کمشنر کی جانب سے سیل کر دیا گیا تھا، گزشتہ روز چوری کی واردات کا نشانہ بن گیا۔
اطلاعات کے مطابق دفتر سے لاکھوں روپے مالیت کا سرکاری سامان چوری کر لیا گیا، جس میں الیکٹرک کا سامان، لیپ ٹاپس، کمپیوٹر، واش روم کا سینیٹری سامان، پنکھے، کنسیلڈ وائرز، سوئچ بورڈز سمیت دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں۔
واقعے کے بعد چوری کی باقاعدہ ایف آئی آر بھی درج کروا دی گئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ سرکاری دفتر کو سیل کرنے کے بعد اس کی حفاظت اور نگرانی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی تھی؟ دفتر میں موجود سرکاری سامان کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کیے گئے تھے؟ اور عوامی خزانے کو پہنچنے والے اس لاکھوں روپے کے نقصان کا ذمہ دار کون ہے؟
یاد دلاتے چلیں کہ یہ دفتر شاہ فیصل ٹاؤن کی ان چار یونین کونسلز کے عوام کو بلدیاتی و سرکاری سہولیات ایک ہی جگہ فراہم کرنے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، جہاں اس سے قبل کوئی سرکاری دفتر موجود نہیں تھا۔
یہ کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے قائم کیا گیا ایک سرکاری سہولت مرکز ہے۔ اس کی بندش کے بعد چوری کی واردات نے انتظامی ذمہ داری اور عوامی اثاثوں کے تحفظ پر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
عوامی سہولت کے اس مرکز کو بند رکھنے اور سرکاری املاک کی حفاظت میں غفلت کا جواب کون دے گا؟