06/11/2024
بتا رہی ہے مرے تن کی خستگی کہ مجھے
ترا خیال ضرورت سے کچھ زیادہ ہے
تمہیں بھی غم ہے مقدر کی رائیگانی کا ؟
تمہارے پاس تو قسمت سے کچھ زیادہ ہے
میں جانتا تو نہیں تجھ سے کیا تعلق ہے
مگر یہ طے ہے محبت سے کچھ زیادہ ہے۔۔
04/11/2024
Barso”n mein maraasim
bante hyn,
Lamho”n mein bhala kya
toote”n ge
…Tu mujh se bicharna
chahe tou
Deewaar uthaa dheere
dheere … !
30/10/2024
مری زندگی بھی مری نہیں یہ ہزار خانوں میں بٹ گئی
مجھے ایک مٹھی زمین دے یہ زمین کتنی سمٹ گئی
تری یاد آئے تو چپ رہوں ذرا چپ رہوں تو غزل کہوں
یہ عجیب آگ کی بیل تھی مرے تن بدن سے لپٹ گئی
مجھے لکھنے والا لکھے بھی کیا مجھے پڑھنے والا پڑھے بھی کیا
جہاں میرا نام لکھا گیا وہیں روشنائی الٹ گئی
نہ کوئی خوشی نہ ملال ہے کہ سبھی کا ایک سا حال ہے
ترے سکھ کے دن بھی گزر گئے مری غم کی رات بھی کٹ گئی
مری بند پلکوں پہ ٹوٹ کر کوئی پھول رات بکھر گیا
مجھے سسکیوں نے جگا دیا مری کچی نیند اچٹ گئی
بشیر بدر
24/06/2023
کسی بھی تعلق میں دو لوگوں کا کچھ عرصہ ساتھ رہ کر ٹائم گزارنے کے بعد بےرُخی اور تغافل برتنا الوداع کہنے کا سب سے دردناک انداز ہے۔
رہا نہ دل میں وہ بےدرد اور درد رہا
مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا
Rozina Karamat
16/05/2023
بیانِ حال مفصّل نہیں ہوا اب تک
جو مسئلہ تھا وہی حل نہیں ہوا اب تک
نہیں رہا کبھی میں تیری دسترس سے دور
مِری نظر سے تُو اوجھل نہیں ہوا اب تک
بچھڑ کے تجھ سے یہ لگتا تھا ٹوٹ جاؤں گا
خدا کا شکر ہے پاگل نہیں ہوا اب تک
جلائے رکھا ہے میں نے بھی اک چراغِ امید
تمہارا در بھی مقفّل نہیں ہوا اب تک
مجھے تراش رہا ہے یہ کون برسوں سے
مِرا وجود مکمل نہیں ہوا اب تک
دراز دستِ تمنّا نہیں کیا میں نے
کرم تمہارا مسلسل نہیں ہوا اب تک
جہانگیرنایاب
04/01/2023
کرم والوں کی بستی میں صدائیں دیں بہت ہم نے
سبھی نے کھڑکیاں کھولیں کسی نے در نہیں کھولا
جون ایلیا
31/12/2022
--آؤ کہ دسمبر کو رخصت کریں۔۔
کچھ خوشیوں کو سنبھال کر
کچھ آنسوؤں کو ٹال کر،
جو لمحے گزرے چاہتوں میں
جـو پل بیتے رفاقتـوں میں
کبھی وقت کے ساتھ چلتے چلتے
جو تھک کے رکے رستوں میں
کبھی خوشیوں کی امید مِلی
کبھی بچھڑے ہوؤں کی دید مِلی
کبھی بے پناہ مسکرا دیے
کبھی ہنستے ہنستے رو دیے
ان سارے لمحوں کو مختصر کریں
آؤ کہ دسمبر کو رخصت کریں