15/10/2026
*دیر کالونی پشاور، نجی اسکول کی چھت گرنا - یہ حادثہ نہیں، قتل ہے!*
20 معصوم بچوں کی وفات اور متعدد کے زخمی ہونے کا سن کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔
یہ کوئی قدرتی آفت نہیں، یہ سراسر غفلت، لاپرواہی اور بے حسی ہے!
*میرے چند سوالات ہیں:*
1. نجی اسکولوں کی بلڈنگز کو NOC کون دیتا ہے؟ کیا کبھی ان کی چھتوں، دیواروں کا معائنہ کیا جاتا ہے؟
2. غریب کے بچوں کے لیے ٹاٹ سکول اور پرائیویٹ مافیا کے لیے بوسیدہ عمارتوں میں موت کا کنواں کیوں؟
3. اس واقعے کے بعد محکمہ تعلیم، ضلعی انتظامیہ اور اس اسکول کی انتظامیہ کہاں سو رہی ہے؟ کیا 20 بچوں کی جان اتنی سستی ہے کہ ایک مذمتی بیان سے کام چل جائے گا؟
ہر سال داخلہ مہم کے نام پر لاکھوں فیس لینے والے یہ نجی اسکول مالکان بچوں کی حفاظت کے لیے ایک روپیہ خرچ کرنے کو تیار نہیں۔
میں بطور *صدر، ہیومن رائٹس پروٹیکشن اینڈ سوشل جسٹس ملاکنڈ ڈویژن* مطالبہ کرتا ہوں کہ:
*1. اس واقعے کی شفاف جوڈیشل انکوائری کی جائے۔*
*2. اسکول انتظامیہ اور بلڈنگ کو پاس کرنے والے افسران کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔*
*3. پشاور سمیت پورے KP کے تمام نجی اسکولوں کی بلڈنگز کا فوری سیفٹی آڈٹ کیا جائے۔*
خدارا! ہوش کے ناخن لیں، اس سے پہلے کہ مزید ماؤں کی گودیں اجڑ جائیں۔
اللہ مرحوم بچوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو صبر دے۔
*یامن علی*
*President - Human Rights Protection & Social Justice, Malakand Division*
* *