27/10/2026
لاہور ہائیکورٹ میں رضوی برادران کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عدالتِ عالیہ کے بار بار احکامات کے باوجود وزارتِ داخلہ اپنی جامع رپورٹ پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس جواد ظفر کی جانب سے رضوی برادران کی مبینہ گمشدگی اور بازیابی کے کیس کی سماعت کی گئی، سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے عدالت عالیہ کے سامنے اپنی رپورٹ جمع کروائی
لاہور ہائیکورٹ کے روبرو اپنی رپورٹ میں ایف آئی اے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں رہنماؤں کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس درج اور موجود ہے اور وہ ادارے کو قانونی طور پر مطلوب ہیں، تاہم ایف آئی اے نے واضح کیا کہ رضوی برادران ان کی کی تحویل میں موجود نہیں ہیں
دوسری جانب وزارتِ داخلہ کی طرف سے عدالت کے احکامات کے باوجود رپورٹ جمع نہ کرائے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا،
عدالتِ عالیہ نے وزارتِ داخلہ کو دوبارہ باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ ایک ہفتے کے اندر رپورٹ طلب کر لی ہے کہ دونوں رہنما اس وقت کہاں ہیں اور کس ادارے کی تحویل میں ہیں
بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے وزارتِ داخلہ کو رپورٹ جمع کروانے کی تاکید کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 3 نومبر تک کے لیے ملتوی کردی، گزشتہ سماعت پر بھی عدالت نے وزارتِ داخلہ اور ایف آئی اے سے متعلق رپورٹس طلب کی تھیں جب کہ رضوی برادران 378 روز سے لاپتہ اور مبینہ طور پر جبری گمشدگی کا شکار ہیں