21/10/2026
آپ کو یاد ہوگا، اسلام آباد کے ریڈ زون میں ایک جج کے نوعمر بیٹے نے اپنی وی ایٹ گاڑی سے دو نوجوان لڑکیوں کی زندگیاں چھین لی تھیں۔ دو گھر اجڑ گئے، دو خاندانوں کی دنیا بدل گئی۔ استغاثہ کے مطابق، ملزم کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں تھا۔ لیکن اس کہانی کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ دو جانیں چلی جانے کے بعد آخر چند ہی دنوں میں جج کے بیٹے کو ضمانت پر رہا کیسے کیا گیا؟
یہ حادثہ یکم دسمبر 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے قریب پیش آیا، جہاں ایک ایس یو وی گاڑی نے اسکوٹی پر سوار دو خواتین کو ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں دونوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ گاڑی مبینہ طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد آصف کے کم عمر بیٹے ابوذر چلا رہے تھے۔ پولیس کے مطابق، گاڑی موقع سے چلی گئی تھی، تاہم رجسٹریشن نمبر کی مدد سے اسے ٹریس کیا گیا اور ملزم کو ایک نجی اسپتال سے حراست میں لیا گیا۔
دو دسمبر کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزم کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ ملزم کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں تھا اور وہ حادثے کے بعد موقع سے چلا گیا تھا۔ تاہم چھ دسمبر کو دونوں جاں بحق خواتین کے اہلِ خانہ نے عدالت میں معافی اور صلح سے متعلق بیانات دیے، جس کے بعد ملزم کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
اس معاملے پر دسمبر 2025 میں ریٹائرڈ کرنل اور وکیل انعام الرحیم نے سپریم جوڈیشل کونسل میں متعلقہ جج کے خلاف شکایت بھی دائر کی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ اہلِ خانہ پر صلح کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور جج نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا۔ یہ الزامات تھے، ثابت شدہ حقائق نہیں۔ جون 2026 کے آخر میں ڈان کی رپورٹ کے مطابق، سپریم جوڈیشل کونسل نے شکایت خارج کر دی، تاہم فیصلے کی تفصیلی وجوہات عوامی سطح پر سامنے نہیں آئیں۔ اس مقدمے کے حتمی قانونی انجام کی مکمل صورتِ حال بھی واضح نہیں۔
اب اس واقعے کو ملتان کے حالیہ کیس کے ساتھ رکھ کر دیکھیے، جہاں 15 سالہ یتیم بچے کو گاڑی تلے کچلنے کے الزام میں گرفتار توقیر نذیر مبینہ طور پر پولیس حراست سے فرار ہوا اور بعد میں پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ ایک طرف دو نوجوان لڑکیوں کی ہلا۔۔کت کا مقدمہ ہے، جس میں ملزم ضمانت پر رہا ہوا ہے اور دوسری طرف ایک یتیم بچے کی مو۔۔ت کا مقدمہ ہے، جس کے ملزم کی زندگی ہی پولیس مقابلے میں ختم ہوگئی۔ دونوں مقدمات کے حالات اور قانونی حیثیت مختلف ہیں، لیکن دونوں ہمارے نظامِ انصاف کے سامنے ایک بنیادی سوال ضرور کھڑا کرتے ہیں۔ کیا انصاف کا فیصلہ قانون اور ثبوت کریں گے یا حالات، اثر و رسوخ اور پولیس کی مرضی؟
اگر توقیر نذیر بچے کی ہلا۔۔کت کا ذمہ دار تھا تو اسے کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے تھی، لیکن جرم ثابت ہونے اور سزا دینے کا اختیار عدالت کو ہے، پولیس کو نہیں۔ اسی طرح اسلام آباد کے مقدمے میں بھی یہ ضروری ہے کہ قانونی کارروائی اور ملزم کی ذمہ داری کے بارے میں سوالات کا جواب شواہد اور قانون کی بنیاد پر دیا جائے۔ ضمانت ملنا بریت نہیں، اور کسی ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلا۔۔کت بھی اس کے جرم کا عدالتی ثبوت نہیں بن جاتی۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کس ملزم کو کتنی سخت سزا ملی، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہر شہری کے لیے قانون کا ایک ہی معیار ہے؟ مقتولین کے خاندانوں کو انصاف ملنا چاہیے، ملزم کو صفائی کا حق ملنا چاہیے، اور جرم ثابت ہونے پر سزا بھی قانون کے مطابق ملنی چاہیے۔ نہ کسی بااثر شخص کو قانون سے بالاتر ہونا چاہیے، نہ پولیس کو عدالت بن کر کسی کی زندگی کا فیصلہ کرنے کا اختیار ملنا چاہیے۔ انصاف وہی ہے جو ثبوتوں کے ساتھ عدالت دے، کیونکہ جب سزا کا فیصلہ قانون کے بجائے طاقت یا بندوق کرنے لگے تو پھر انصاف اور انتقام کے درمیان فرق ہی مٹ جاتا ہے۔
اب ہمیں خود سوچنا چاہئے کہ ہمارے ذہنوں کے ساتھ کس طرح کھیلا جارہا ہے کل اگر یہ ہمارے کسی عزیز کے ساتھ ہو اسے فل فرائی کردیا جائے کیا پھر بھی آپ یہی انصاف سمجھے گے؟ ہرگز نہیں ہماری بقا آئین اور قانون ہے نہ کہ سی سی ڈی یا پولیس کی گو۔۔۔۔لی....
انس نواز
21 اکتوبر 2026